واشنگٹن،24/جون (آئی این ایس انڈیا) امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں موت کے بعد جن احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا، ان میں متعدد کنفڈریٹ یادگاری مجسموں کو بھی نقصان پہنچایا گیا یا مظاہرین نے انھیں ہٹا دیا۔ اب ایسے مطالبات میں تیزی پیدا ہورہی ہے کہ ان مجسموں کو ان کے موجودہ مقامات سے منتقل کردیا جائے۔
ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران رچمنڈ ورجنیا میں مظاہرین نے پر زور مطالبہ کیا کہ بعض مجسمےجو وہاں نصب ہیں انھیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔ یاد رہے کہ یہ مجسمے ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نصب کئے گئے تھے جنھوں نے امریکی کنفڈریسی اور غلامی کے تحفظ کے لئے کام کیا تھا۔
واشنگٹن ڈی سی کی مشہور ہاورڈ یونیورسٹی سے مسنلک پروفیسر لوپیز میتھیو کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ غلامی کے خاتمے کو یوں تو تقریباً دو سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ہمیں اب بھی نسل پرستی اور پولیس کے مظالم کا سامنا ہے اور ہم اب بھی عدم مساوات کی صورتحال کا مقابلہ کررہے ہیں اور یہ کنفڈریٹ یادگاریں ماضی کی علامتیں ہیں۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے یادگاری مجسمے اٹھارہ سو اسی سے اٹھارہ سو نوے کی مدت میں امریکہ کے جنوب میں نصب کئے گئے۔ پنسلیونیا میں اکیڈمی آف فائن آرٹس کی پروفیسر سارا بیتھم نے اس جانب توجہ دلائی کہ ملک کے جنوب میں تقریباً ہر کاونٹی اور کورٹ ہاؤس کے احاطے میں کنفڈریٹ لیڈروں کو خراج عقیدت کے طور پر ان کے مجسمے نصب ہیں۔ ان کے مطابق، اس بات پر یقین نہ کرنا مشکل ہے کہ ریاست کی سرپرستی میں یہ یادگاریں بہرحال سفید فام برتری کا نشان ہیں۔
حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک مظاہرے کے دوران ہجوم نے تالیوں کی گونج میں کنفڈریٹ جنرل ایلبرٹ پائیک کے مجسمے کو گرادیا۔ اسی طرح رالے نارتھ کیرولینا میں ایک ہجوم نے اس وقت نہایت خوشی کا اظہار کیا جب مقامی حکام نے ایسے ہی ایک مجسمے کو اس کی بنیاد سے جدا کردیا۔
اسی طرح جارجیا میں بھی مظاہرین نے اس وقت اپنی مسرت کا اظہار کیا جب ایک جج نے پتھر کی بنی ہوئی ایک تختی کو ہٹانے کا حکم دیا جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سفید فام برتری کا احساس دلاتی ہے۔